History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu [2021] Jun 2026

قائم کیا اور "دو قومی نظریہ" کی بنیاد رکھی، جس کے مطابق ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ 3. آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام (1906ء)

2. سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک

انگریزوں نے اس جنگ کا اصل ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا۔ ان پر ملازمتوں، جائیدادوں اور تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے۔

شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے۔ یہ قرارداد بعد میں "قراردادِ پاکستان" کے نام سے مشہور ہوئی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ برصغیر کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں (پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا) پر مشتمل ایک آزاد مسلم ریاست کا قیام مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے۔ 11۔ گول میز کانفرنسیں (1930ء - 1932ء)

مسلمانوں کی طرف سے علیحدگی کی تقاضا کے پیچھے ایک اہم شخصیت مولوی فضل الحق تھے۔ انہوں نے 1930 میں لندن میں برطانوی حکومت سے ملاقات کی اور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی تقاضا کی۔

لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ آزاد وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ قائد اعظم نے صدارتی خطبہ دیا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

برطانوی حکومت اور مسلمانوں کے درمیان وفاداری کے جذبات پیدا کرنا اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا۔ 4۔ میثاقِ لکھنؤ (1916ء)

برصغیر کے شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر آزاد اور خودمختار ریاستیں قائم کی جائیں۔ اس قرارداد کے بعد مسلمانوں کی جدوجہد کا واحد مقصد "پاکستان کا حصول" بن گیا۔ 11۔ اہم مشنز اور مذاکرات (1942ء-1946ء)

تحریکِ پاکستان کی تاریخ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل، تھکا دینے والی اور انتھک جدوجہد کی کہانی ہے۔ یہ سفر 1857ء کی جنگِ آزادی سے شروع ہو کر 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔ ذیل میں اس پورے دورانیے کے اہم ترین تاریخی واقعات اور مراحل کو تفصیلی نوٹس کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

"پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ"۔

3۔ انڈین نیشنل کانگریس کا قیام (1885ء)

1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے جب اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا (اردو ہندی تنازع)، تو سر سید احمد خان نے پہلی بار واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ 3۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام (1906ء)